مہاتما گاندھی کے قاتل
Book Image
                                
 By:اعجاز ابنِ اسد
 Subject:
 Binding:
 ISBN:9789694074542
 Year:2017
 Price:Rs. 795/=
  
Description: کتاب کے بارے میں:- زیرِ ترجمہ کتاب مہاتمہ موہن داس کرم چند گاندھی کے قتل کی سازش کی تفصیلات سے متعلق ہے۔ مصنف، منوہر ملگون کر صاحب نے بڑی جانفشانی سے اس سازش کی تحقیقات کی اور ایسے ایسے پہلو اور حقائق سامنے لے کر آئے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے اجاگر نہیں کئے۔ یہ واقعات چعنکا دینے والے بھی ہیں اور تاریخ کے طالب علموں کے لئے دلچسپ بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتما گاندھی کی شخصیت بڑی قد آور تھی۔ ان کی ٹکر کا اگر کوئی سیاستدان تھا تو وہ قائدِ اعظام محمد علی جناح تھے گاندھی نے اپنے آخری دنوں میں تسلیم کیا ، گو کبھی برملا اعلان نہیں کیا کہ وہ قائدِ اعظم سے شکست کھا گئے یہ گاندھی کی حقیقت پسندی کا اظہار تھا، ماؤنٹ بیٹن، گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کا پاکستان کے مطالبے کو تسلیم کرلینا قائدِ اعظم کی بہت بڑی فتح تھی۔ کچھ نصنف کے بارے میں: منوہر ملگون کرکا تعلق ہندوستان کے ایک شاہی خاندان سے تھا۔ وہ 22 جولائی، سنہ 1913ء کو پیدا ہوئے اور بمبئی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے فوج میں ملازمت کی اور مراٹھا لائٹ رجمنٹ میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک ترقی کی۔ وہ شکار کے شوقین تھے اور عموماً بڑے جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ انہوں نے سرکاری ملازمت بھی۔ وہ ایک کان کے مالک بھی تھے اور کسان بھی تھے۔ انہوں نے پاررلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ منوہر ملگون کر نے 14 جون سنہ، 2010 کے تقریباٰ 98 سال کی عمر میں کرناٹکا کے شہر بیلگام میں اس دنیا سے کوچ کیا۔  
     
 About The Author:
اعجاز ابنِ اسد برطانوی ہندوستان کے شہر مدراس میں مئی، 1845 میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ڈھاکہ ( اس وقت مشرقی پاکستان) میں حاصل کی۔ سنہ 1964ء میں کراچی آگئے اور میٹرک حبیب پبلک اسکول سے پاس کیا۔ اس ایم سائنس کالج انٹر کیا اور پھر جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں بی اے (آنرز)، ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انکا پہلا ترجمعہ "ہم جو زندہ ہیں" آئین رینڈ کے مشہور ناول "وی دا لِونگ" کا تھا جو سنہ 2013ء میں شائع ہوا اور جسکا پہلا ایڈیشن بِک گیا ہےاور دوسرے کی تیاری ہورہی ہے۔ ان کی دوسری کتاب "تھیٹر – پرجوش فن " ایڈوِن وِسن اور ایلوِن گولڈ فارب کی کتاب، "تھیٹر – آ لِولی آرٹ" کا ترجمعہ ہے جسے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس شائع کر رہی ہے۔ زیرِ نظر اعجاز ابنِ اسد کا تیسرا ترجمعہ ہے۔ وہ مزید کتابوں پر کام کر رہے ہیں جو جلد شائع ہوں گی۔
 
 
    نظریہء ضرورت اور سپریم کورٹ
 Description: یہ کتاب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا ترجمہ ہے جس میں عدالتِ عالیہ نے "نظریہ ء ضرورت" کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا اور ہماری قوم کو ایک بہت بڑی نحوست سے چھٹکارا دلا دیا۔ "نظریہ ء ضرورت" ہینس کیلسن کی وضع کردہ تھیوری تھی جسے دنیا میں کہیں بھی قبول نہیں کیا گیا، لیکن پاکستان میں اس کو ایسے سینے سے لگایا گیا جیسے وہ کوئی مقدس صحیفہ ہو۔ اس نظرئے کا سہارا لے کر ہماری قوم کو انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد 31 سال افواجِ پاکستان کی غلامی میں بسر کرنا پڑی۔ یہ سپریم کورٹ کو اور خصوصاً اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو احسان ہے کہ انہوں نے اس مقدمے میں ایسا فیصلہ سنایا کہ آیندہ طالع آزماؤں کی راہیں مسدود جائیں۔ اس فیصلے میں چیف جسٹس افتخار محمد چوھدرہ نے بڑے واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ پچھلے ادوار میں عدلیہ سے جو غلطیاں ہویں، انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ نہیہں ہوں گی۔ چوہدھری صاحب کے اس فیصلے سے پاکستان میں تمام جمہوری قوتوں کو ایک نئی طاقت ملی ہے، جس کے لئے قوم ان کی شکر گزار ہے۔
 Subject:
 Book:نظریہء ضرورت اور سپریم کورٹ
  
Book Image
 
 
    مہاتما گاندھی کے قاتل
 Description: کتاب کے بارے میں:- زیرِ ترجمہ کتاب مہاتمہ موہن داس کرم چند گاندھی کے قتل کی سازش کی تفصیلات سے متعلق ہے۔ مصنف، منوہر ملگون کر صاحب نے بڑی جانفشانی سے اس سازش کی تحقیقات کی اور ایسے ایسے پہلو اور حقائق سامنے لے کر آئے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے اجاگر نہیں کئے۔ یہ واقعات چعنکا دینے والے بھی ہیں اور تاریخ کے طالب علموں کے لئے دلچسپ بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتما گاندھی کی شخصیت بڑی قد آور تھی۔ ان کی ٹکر کا اگر کوئی سیاستدان تھا تو وہ قائدِ اعظام محمد علی جناح تھے گاندھی نے اپنے آخری دنوں میں تسلیم کیا ، گو کبھی برملا اعلان نہیں کیا کہ وہ قائدِ اعظم سے شکست کھا گئے یہ گاندھی کی حقیقت پسندی کا اظہار تھا، ماؤنٹ بیٹن، گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کا پاکستان کے مطالبے کو تسلیم کرلینا قائدِ اعظم کی بہت بڑی فتح تھی۔ کچھ نصنف کے بارے میں: منوہر ملگون کرکا تعلق ہندوستان کے ایک شاہی خاندان سے تھا۔ وہ 22 جولائی، سنہ 1913ء کو پیدا ہوئے اور بمبئی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے فوج میں ملازمت کی اور مراٹھا لائٹ رجمنٹ میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک ترقی کی۔ وہ شکار کے شوقین تھے اور عموماً بڑے جانوروں کا شکار کرتے تھے۔ انہوں نے سرکاری ملازمت بھی۔ وہ ایک کان کے مالک بھی تھے اور کسان بھی تھے۔ انہوں نے پاررلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ منوہر ملگون کر نے 14 جون سنہ، 2010 کے تقریباٰ 98 سال کی عمر میں کرناٹکا کے شہر بیلگام میں اس دنیا سے کوچ کیا۔
 Subject:
 Book:مہاتما گاندھی کے قاتل
  
Book Image
 

 

 

Visitor Number  Hit Counter by Digits
  Facebook Twiter G+ www.anilogix.biz

More Reading:

  • osteria del gesso

  • l'inter-crosse en france

  • anne graindorge

  • il melarancio

  • hotel le terrazze